Wednesday, 8 February 2017

Bank aur uske Interest se mutalliq chand Sharayi masail, Nadeem Ahmed Ansari, Al Falah Islamic Foundation, India

بینک اور اس کے انٹرسٹ سے متعلق چند شرعی مسائل
ندیم احمد انصاری
گذشتہ دنوں نوٹ بندی کے بعد سے ہندوستان کے ہر شہری کو بینک سے جس طرح سابقہ پڑا، تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اسلام چوں کہ پاکیزگی ، تقویٰ و طہارت اور ہم دردی کو پسند اور ظلم و سود خوری کو ناپسند کرتاہے ، اور بینک سے معاملات کرنے پر خواہی نہ خواہی سود وغیرہ سے سابقہ پڑتا ہے ، اس لیے ضروری معلوم ہوا کہ ان حالات میں اسلام کے ماننے والوں کے لیے چند شرعی مسائل پر رہ نمائی کی جائے ، تاکہ ان کا مال طیّب اور ان کی خوراک حرام کی آمیزش محفوظ رہے ۔
بلا وجہ بینک رقم جمع کرنا
اصل تو یہ ہے کہ چوںکہ بینک کے اکثر معاملات سودی ہوتے ہیں، اس لیے بغیر کسی مجبوری کے بینک میں رقم جمع کرانا ہی جائز نہیں ہے ۔(احسن الفتاویٰ)البتہ مجبوری کی صورت؛ مثلاً گھر میں روپیوں کا محفوظ رہنا مشکل ہو، یا چوری یا ضائع ہوجانے کا اندیشہ ہو، (یا ہندوستان کے عجیب و غریب قانون کی طرح اپنی رقم گھر میں رکھنے کو کالے دھن کا نام دیا جانے لگے)تو بینک میں رقم جمع کرانے کی گنجائش ہے ۔ (فتاویٰ محمودیہ)مختصر یہ کہ مسلمان اپنے روپے بہ غرضِ حفاظت بینکوں کے کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھ سکتے ہیں، جس پر اگر کوئی سودی رقم اُن کے کھاتے میں آجائے تو اُسے اپنے استعمال میں نہ لائیں، بلکہ غریبوں پر تقسیم کردیں۔(نظام الفتاویٰ)
بینک کے سود کو منافع قرار دینا
بینک کے سود کے نتائج آج عفریت کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں، امیروں کا امیر تر ہونا اور غریبوں کا غریب تر ہونا، ملک میں طبقاتی کشمکش کا پیدا ہوجانا اور ملک کا کھربوں روپے کا بیرونی قرضوں کے سود میں جکڑ جانا، اسی سودی نظام کے شاخسانے ہیں۔ قرآن مجید نے سودی نظام کو اللہ اور رسول کے خلاف اعلانِ جنگ قرار دیا ہے ، اسلامی معاشرہ خدا اور رسول سے جنگ کرکے جس طرح چور چور ہوچکا ہے ، وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے ۔ ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ کچھ لوگوں نے بینک سے سودی قرضہ لیا اور پھر اس لعنت میں ایسے جکڑے گئے کہ نہ جیتے ہیں، نہ مرتے ہیں۔ ہمارے معاشی ماہرین کا فرض یہ تھا کہ وہ بینکاری نظام کی تشکیل غیرسودی خطوط پر استوار کرتے ، لیکن افسوس کہ آج تک سود کی شکلیں بدل کر ان کو حلال اور جائز کہنے کے سوا کوئی قدم نہیں اُٹھایا گیا۔(آپ کے مسائل اور ان کا حل مخرج)
ہندوستانی بینکوں و پوسٹ آفس کا سود
بینک اور ڈاک خانے سے ملنے والی سودی رقم شرعاً حرام ہے اور اسے فقرا پر تقسیم کرنا ضروری ہے ۔ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں اس کا یہی حکم ہے ،علماے محققین کا متفقہ موقف یہی ہے ۔ جو لوگ ہندوستان کو دارالحرب کہہ کر اس کے سود کو حلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ مولانا اشرف علی تھانویؒجیسے محقق علما نے دلیل کے اعتبار سے حضرت امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کو راجح قرار دیا ہے ، جس میں واقعی دار الحرب میں بھی سودی لین دین کو ممنوع کہا گیا ہے ۔(امداد الفتاوی)دیگر اکابرین میں مولانا حسین احمد مدنیؒ کی بعض تحریرات سے بینک کے سود کو لینے کی جو اجازت معلوم ہوتی ہے ، وہ در حقیقت انگریزی دورِ حکومت کے بینکوں کے بارے میں ہے ، چناںچہ انھوں نے بھی مشترکہ قومی بینکوں سے سود لینے کو ممنوع قرار دیا اور فرمایا ہے کہ ہم مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ سود کا لین دین اور معاملہ حرام سمجھیں اور اس سے باز آئیں، اور اپنے اخراجات کم کریں، تاکہ قرض لینے کی نوبت نہ آئے ۔(فتاوی شیخ الاسلام)
یوروپین بینکوں میں رقم جمع کروانا
غیر مسلم ممالک کے وہ بینک جن کے مالک بھی غیر مسلم ہیں، اس بارے میں موجودہ دور کے بعض علما کا کہنا ہے کہ ان بینکوں میں رقم رکھوانا اور اس رقم پر بینک جو منافع دیتا ہے ، اس کو لینا جائز ہے ، لیکن جمہور فقہا نے بعض علما کے اس قول کو قبول نہیں کیا، حتی کہ متاخرین حنفیہ نے اس قول کے مطابق فتویٰ بھی نہیں دیاہے ۔(فقہی معاملات ملخصا)محققین علما کا فتویٰ ہے کہ دارالحرب میں بھی غیر مسلموں سے سود لینا حرام ہے ۔(احسن الفتاویٰ) بلکہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ آج کل موجودہ دور میں عام اسلامی حکومتوں پر مغربی ممالک ہی کا تسلط اور کنٹرول ہے اور ان کے کنٹرول کے اہم عوامل میں سے ایک یہ ہے کہ انھوں نے مسلم ممالک کی دولت کو یا تو غصب کر لیا ہے یا مسلم ممالک نے ان مغربی ممالک سے جو قرض لیا ہے ، اس قرض پر سود کی صورت میں مسلمانوں کا مال حاصل کر لیا ہے ۔ دوسری طرف مسلمانوں نے جو بڑی بھاری رقمیں ان ممالک کے بینکوں میں رکھوائی ہیں، ان رقموں پر بھی ان کا قبضہ ہے ، اس رقم کو وہ اپنی ضروریات میں خرچ کرتے ہیں، بلکہ اس رقم کو مسلمانوں ہی کے خلاف سیاسی اور جنگی اسکیموں کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، لہٰذا مسلمان اپنی رقم پر ملنے والا سود وہاں چھوڑ دیں تو اس کے ذریعے ان کفار کو تقویت ہوگی، ان حالات کی وجہ سے میرا رجحان اس طرف ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے لیے غیر مسلم ممالک میں غیر مسلموں کی بینکوں سے اپنی رقم پر ملنے والے سود کو وصول کر لینا جائز ہے ، لیکن اس رقم کو اپنی ضروریات میں صَرف کرنا ٹھیک نہیں ہے ، بلکہ بلا نیتِ ثوابت کسی نیک مصرف میں خرچ کر دینا چاہیے ، اس طرح جو مسلمان اپنی رقمیں ان بینکوں میں رکھوا کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے کام میں ان کافروں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں، اس تعاون میں کمی ہو جائے گی۔(فقہی معاملات)
بینک کی سودی رقم کیسے ادا کرے
اگر کسی نے اپنی رقم کی حفاظت کے لیے بینک کے کھاتے میں رقم جمع کی، جس پر اسے لازمی سود ملا، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ یہ سودی رقم کسی ضرورت مند فقیر کو دے دے ، لیکن جب تک کھاتے میں یہ سودی رقم بینک کی طرف سے منتقل نہ ہو، اس سے قبل اپنی جمع شدہ رقم سے سود کی نیت سے رقم منہا کرنا کافی نہیں ہوگا،کیوں کہ اب تک اس میں سودی رقم شامل ہی نہیں ہوئی،البتہ جب کھاتے میں سودی رقم آجائے ، تو اسی کے بہ قدر رقم نکال کر الگ کرنے سے بقیہ جمع شدہ رقم سود سے محفوظ قرار پائے گی، اور اس صورت میں سود کی نیت سے جو رقم نکالی جائے ، وہ اپنی ذات پر خرچ کرنا جائز نہیں ہے ، البتہ غیر واجبی ظالمانہ ٹیکس میں خرچ کرنے کی گنجائش اور غریب محتاج پر بلا نیتِ ثواب صرف کرنا درست ہے ۔(فتاویٰ محمودیہ)
ایک شبہ اور اس کا ازالہ
ایک عام شبہ یہ ہے کہ بینک میں ساری ہی رقوم ایک ہی کھاتے میں خلط ملط رہتی ہیں، محض سود کا اور غیر سود کا حساب صاف صحیح رکھنے کی غرض سے صرف کاغذات میں الگ الگ اندراج رہتا ہے اور بینک ہی میں الخطل استہلاک صادق آچکا ہوتا ہے ، تو اب بینک سے نکالنے کے بعد یہ امتیاز وغیرہ سب فرضی ہی رہ جاتا ہے ، اس لیے یہ سب احکام بے کار و بے محل ہیں، تو جواب یہ ہے کہ بینک حکومتِ غیر مسلمہ کے ہیں، اور وہ ان احکام کے مخاطب نہیں ہیں کہ یہ سب احکام ان پر لاگو ہوں اور ہماری اس میں ذمّے داری بھی نہیں ہے اور نہ ہمارا اس میں کچھ دخل ہی ہے کہ بینک میں رہنے کی حالت میں ہم پر یہ احکام متوجہ ہوں، البتہ بینک سے نکل کر ہمارے پاس پہنچنے پر چوں کہ ہم بفضلہ تعالیٰ مسلمان ہیں اور ان سب احکام کے مخاطب و مکلف ہیں، اس لیے یہ سارے احکام ہم پر متوجہ ہو جاتے ہیں ۔(منتخبات نظام الفتاویٰ)
اِنکم ٹیکس سے بچنے کی ایک تدبیر
غیر واجبی ٹیکس کی ادایگی سے بچنے کے لیے بہ طریقِ حیلہ بینک میں وقتی طور پر روپے جمع کرنے کی گنجائش نکل سکتی ہے ، لیکن اس سے جو بھی سود ملے وہ اپنی ذات پر یا رشوت کے طور پر یا کسی غنی پر خرچ کرنا جائز اور درست نہیں ہے ، اس سودی رقم کو انکم ٹیکس جیسے غیر واجبی ٹیکس میں یا پھر فقرا ومساکین پر خرچ کرسکتے ہیں۔ (ایضاح النوادر)
اِنکم ٹیکس کٹنے پر سودی رقم سے بھرپائی
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ سرکاری ملازم وغیرہ، جن کی تنخواہ سے انکم ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے کہ وہ اپنی تنخواہ کو حکومت کے ذریعے دیے گئے سود سے پورا کرسکتے ہیں، جب کہ یہ درست نہیں ہے ، یعنی انکم ٹیکس کٹ جانے کے بعد سودی رقم اپنے استعمال میں نہیں لائی جا سکتی، ہاں یہ کیا جا سکتا ہے کہ تنخواہ ملنے پر پہلے پوری رقم وصول کرلیں، پھر انکم ٹیکس کی رقم سودی رقم سے منہا کرادیں۔ (ایضاح النوادر)
قبضے سے قبل سود کی ادایگی
جب تک بینک میں جمع شدہ سودی رقم الگ کرنے کے بعد کھاتے دار کے قبضے اور تصرف میں نہ آجائے ، اس وقت تک اس سودی رقم کا تصدق واجب نہیں، لہٰذا واجب سے پہلے اس کی طرف سے دوسری رقم بدل کر خرچ کردینے سے بعد میں واجب ہونے والے تصدق کی تلافی ہرگز نہیں ہوسکتی، اس لئے جب بھی سودی رقم ملے گی اس کو بلانیتِ ثواب فقرا پر صرف کرنا لازم ہوگا۔(ایضاح المسائل)
فقرا پر صدقے کی نیت سے سود کا حصول
بعض لوگ دریافت کرتے ہیں کہ اس نیت سے سودی بینک میں روپے جمع کرنا کہ آنے والا سود فقرا پر تقسیم کر دیںگے ، کیسا ہے ؟ تو جاننا چاہیے کہ علماے کرام نے اسے ممنوع قرار دیا ہے ، اس لیے ایسا کرنا ہرگز جائز اور درست نہیں ہے ۔ اگر فقرا کے ساتھ خیرخواہی کا ارادہ اور خواہش ہو تو اپنی حلال اور پاکیزہ کمائی کے ذریعے فقرا کی امداد کریں، فقرا کو بہانہ بناکر سود حاصل کرنا ہرگز درست نہیں۔ (احسن الفتاویٰ)
فکس ڈپازٹ کرنا
بینک میں ایک اسکیم ہوتی ہے ، جسے ’فکس ڈپازٹ‘ کہا جاتا ہے ، مثلاً چند سالوں کے لیے معتد بہ رقم جمع کی جاتی ہے اور مقررہ وقت کے بعد جمع کرنے والے کو وہ رقم دوچند ہو کر ملتی ہے ، تو یہ زائد رقم لینااور اس کے لیے فکس ڈپازٹ کرنا جائز نہیں ہے ، اس لیے کہ جمع شدہ رقم پر جو اضافہ ملتا ہے ، وہ سود ہے ، اگر کسی نے ایسا کر ہی ڈالا، تو اصل رقم پر ملا ہوا نفع کسی غریب و نادار پر بلانیتِ ثواب صدقہ کرنا ضروری ہے ۔ (ایضاح النوادر)
سود کی رقم سے بیت الخلا
بہت عام ہے کہ سود کے پیسے سے بیت الخلا بنایا جا سکتا ہے ، جب کہ علما نے اسے بھی ممنوع لکھا ہے ،بعض معتبر فتاویٰ میں مرقوم ہے کہ اگر مسجد کی رقم بھی بینک میں رکھی ہو، تو اس پر ملنے والی سودی رقم سے مسجد کا بیت الخلا وغیرہ بنانا درست نہیں ہے ، اور اس نیت سے جورقم نکال کر بیت الخلا کی تعمیر اور صفائی میں لگائی گئی ہے ، وہ اپنے مصرف میں صرف نہیں ہوئی، لہٰذا مسجد کے فنڈ سے اس رقم کے بہ قدر روپے نکال کر غریبوں ومسکینوں میں تقسیم کرنا ضروری ہے ، اور یہ مستحق کوئی بھی ہوسکتا ہے خواہ مسافر ہو یا مقیم، مسجد کی کمیٹی جس پر اطمینان کرلے اس کو یہ رقم دے سکتی ہیں، اِسی طرح مسجد کے دکانوں پر حکومت کی طرف سے جو ٹیکس لگایا گیا ہے ، یہ شرعاً غیر واجب ٹیکس ہے ، لہٰذا سود کا پیسہ اس ٹیکس میں بھی صرف کرنا درست ہے ، تاکہ حکومت سے لی ہوئی رقم حکومت کے خزانے میں اس ذریعے سے لوٹائی جاسکے ، البتہ بیت الخلاکی صفائی کے لیے یا اس میں ٹائلس وغیرہ لگانے کے لیے سودی رقم صرف کرنا درست نہیں ہے ۔(احسن الفتاوی، کفایت المفتی)
nadeem@afif.in


No comments:

Post a comment